حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مغربی اتر پردیش اور ممبئی کے دینی و تعلیمی حلقوں میں نہایت افسوسناک خبر موصول ہوئی کہ ممتاز عالمِ دین اور تنظیم المکاتب کے مخلص خادم، مولانا انیس الحسن زیدی کا انتقال ہو گیا۔ ان کی رحلت سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہیں اخلاص، دیانت اور خاموش خدمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
مولانا انیس الحسن زیدی ضلع بریلی کے قصبہ سیتھل سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد انہوں نے لکھنؤ کے معروف دینی ادارے جامعہ ناظمیہ میں باقاعدہ علمی سفر کا آغاز کیا۔ جامعہ ناظمیہ میں دورانِ تعلیم انہوں نے نہ صرف نصابی علوم میں مہارت حاصل کی بلکہ اساتذہ کی تربیت میں اخلاق، تحمل اور احساسِ ذمہ داری جیسی صفات بھی اپنے اندر پیدا کیں۔
فراغت کے بعد انہوں نے ذاتی آسائش یا شہرت کے بجائے دینی و تعلیمی خدمت کا راستہ اختیار کیا اور خود کو تنظیم المکاتب سے وابستہ کر لیا۔ مغربی اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں انہوں نے امامِ جمعہ و جماعت کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کی خطابت میں جذباتی باتوں کے بجائے سنجیدگی اور اصلاح کا پہلو نمایاں رہتا تھا۔ وہ مجمع کو متاثر کرنے کے بجائے افراد کی عملی تربیت پر توجہ دیتے تھے۔
مسائلِ شرعیہ کے بیان میں وہ غیر معمولی احتیاط برتتے تھے۔ توضیح المسائل پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا اور وہ کسی بھی مسئلے کو پوری تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ بعد ازاں تنظیم المکاتب میں بحیثیت انسپکٹر ان کی ذمہ داریاں وسیع ہوئیں اور انہوں نے مختلف ریاستوں میں قائم مکاتب کے معائنہ، امتحانات کی نگرانی اور تعلیمی نظم و ضبط کی حفاظت کا فریضہ امانت و دیانت کے ساتھ انجام دیا۔
سن 1992ء میں ممبئی کی معروف خوجہ مسجد میں امامِ جمعہ مقرر کیے گئے، جہاں انہوں نے اعتدال، حلم اور وقار کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور مختلف طبقوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم رکھی۔
مرحوم تنظیم المکاتب کے بے لوث خادم تھے اور تنظیمی قیادت کے ساتھ ان کا تعلق اخلاص اور باہمی احترام پر قائم تھا۔ ان کی رحلت سے قوم ایک ایسے باوقار عالم سے محروم ہو گئی ہے جس نے خدمتِ دین کو نمائش نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ و تدفین حسبِ ذیل مقرر ہے:
تدفین: ہفتہ، 3 رمضان المبارک 1447ھ
مطابق: 21 فروری 2026ء
وقت: صبح 11:00 بجے
مقام: رحمت آباد قبرستان، ممبئی
تمام مومنین سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس عظیم دینی شخصیت کی تشییع جنازہ میں شرکت فرما کر مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کریں اور لواحقین سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کریں۔ آپ کی شرکت مرحوم کے ساتھ وفاداری اور دینی خدمات کا اعتراف ہوگی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، آمین









آپ کا تبصرہ